شاعری ہب / غزل / مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

Musafir Hain Hum bhi Musafir Ho Tum bhi Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی!

ہم نے تو سجائی ہے وفا کی حسیں بزم

جہاں ہر سطر میں محبت کی بات ہوگی!

بشیرؔ ترنم و نغمگی کا یہ سحر سدا رہے گا

جس سے چمنِ اردو میں سدا برسات ہوگی!

Musafir Hain Hum Bhi Musafir Ho Tum Bhi

Kisi Mod Par Phir Mulaaqaat Hogi!

Hum Ne To Sajayi Hai Wafa Ki Haseen Bazm

Jahan Har Satr Mein Mohabbat Ki Baat Hogi!

Bashir Tarannum-o-Naghmagi Ka Yeh Sehr Sada Rahe Ga

Jis Se Chaman-e-Urdu Mein Sada Barsaat Hogi!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے