شاعری ہب / غزل / کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

Koi Haath bhi na Milayega Jo Gale Miloge Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو!

کئی چہرے ہیں یہاں ہر ایک چہرے کے پیچھے چھپے

کسی شخص کی باتوں پہ نہ تم آنکھیں بند کر کے چلا کرو!

ہم نے تو لٹایا ہے خلوص کا سمندر ہر سو

پر زمانے کے ستم سے ذرا سنبھل کر ملا کرو!

بشیرؔ فکری بصیرت کا یہ نغمہ سدا گونجے گا

جسے ہر دور میں دل کی گہرائی سے سنا کرو!

Koi Haath Bhi Na Milayega Jo Gale Miloge Tapaak Se

Yeh Naye Mizaaj Ka Shahr Hai Zara Faasle Se Mila Karo!

Kayi Chehre Hain Yahan Har Ek Chehre Ke Peeche Chhupe

Kisi Shakhs Ki Baaton Pe Na Tum Aankhein Band Kar Ke Chala Karo!

Hum Ne To Lutaya Hai Khaloos Ka Samundar Har Su

Par Zamane Ke Sitam Se Zara Sanbhal Kar Mila Karo!

Bashir Fikri Baseerat Ka Yeh Naghma Sada Goonje Ga

Jise Har Daur Mein Dil Ki Gehraayi Se Suna Karo!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے