شاعری ہب / غزل / تیری آنکھوں کے ستارے چمکے

تیری آنکھوں کے ستارے چمکے

Teri Aankhon ke Sitare Chamke Ghazal Shirani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تیری آنکھوں کے ستارے چمکے جب رات کے سناٹے میں

دل نے اک بار پھر تری دید کی حسرت کر لی!

ہم تو سمجھے تھے کہ بھول گئے ہیں ترے ستم سارے

پر تری یاد نے پھر سے یہ محبت کر لی!

اخترؔ اس عشق کے دریا میں اترتے چلیے

جس نے دل کو سکھائی ہے یہ راحت!

Teri Aankhon Ke Sitaare Chamke Jab Raat Ke Sannaate Mein

Dil Ne Ik Baar Phir Teri Deed Ki Hasrat Kar Li!

Hum To Samjhe The Ke Bhool Gaye Hain Tere Sitam Saare

Par Teri Yaad Ne Phir Se Yeh Mohabbat Kar Li!

غزل Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے