شاعری ہب / غزل / شامِ غم کی یہ اداسی

شامِ غم کی یہ اداسی

Sham-e-Gham ki Yeh Udasi Ghazal Shirani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شامِ غم کی یہ اداسی دل کو تڑپاتی ہے سدا

پر تری یاد کی شمع روح کو مہکاتی ہے سدا!

ہم نے تو لٹائی ہے نغمگی تری دید کے واسطے

اور بیتے ہوئے دنوں کے خواب جگاتی ہے سدا!

اخترؔ وفا کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹے گا

جو دل کے ہر زخم کو پھول بناتی ہے سدا!

Shaam-e-Gham Ki Yeh Udaasi Dil Ko Tadpaati Hai Sada

Par Teri Yaad Ki Shama Rooh Ko Mehkati Hai Sada!

Hum Ne To Lutayi Hai Naghmagi Teri Deed Ke Waaste

Aur Beete Hue Dinon Ke Khwab Jagaati Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے