شاعری ہب / غزل / بہار آئی ہے گلشن مہکا ہے

بہار آئی ہے گلشن مہکا ہے

Bahaar Aayi Hai Gulshan Mehka Hai Shirani Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بہار آئی ہے گلشن مہکا ہے اور کھل گئیں کلیاں ساری

پھولوں نے سجا دیے ہیں رنگوں کے دیپ سارے!

ساقی پلا دے وہ جامِ مے جس سے دل جھوم اٹھے

اور مٹ جائیں زمانے کے یہ غم سارے!

اخترؔ حسن اور شباب کی یہ حسیں داستان

جس سے سنور گئے ہیں یہ چمن سارے!

Bahaar Aayi Hai Gulshan Mehka Hai Aur Khil Gayin Kaliyan Saari

Phoolon Ne Saja Diye Hain Rangon Ke Deep Saare!

Saaqi Pila De Woh Jaam-e-May Jis Se Dil Jhoom Uthe

Aur Mit Jaayein Zamane Ke Yeh Gham Saare!

غزل Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے