شاعری ہب / غزل / ہم نے ہر دور میں پیار کیا ہے

ہم نے ہر دور میں پیار کیا ہے

Hum Ne Har Daur mein Pyaar Kiya Hai Shirani Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے ہر دور میں پیار کیا ہے اخترؔ

حسن و الفت کا نیا نغمہ سنایا ہے سدا!

دنیا کے رنج و غم سے نہ گھبرائے کبھی

محبت کے دیے کو ہر سو جلایا ہے سدا!

اخترؔ اس بزم میں سچائی ہی سب سے بڑا ہنر

جسے ہم نے دل کے تاروں پہ سجایا ہے سدا!

Hum Ne Har Daur Mein Pyaar Kiya Hai Akhtar

Husn-o-Ulfat Ka Naya Naghma Sunaya Hai Sada!

Duniya Ke Ranj-o-Gham Se Na Ghabraaye Kabhi

Mohabbat Ke Diye Ko Har Su Jalaya Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے