شاعری ہب / غزل / وہ ہمیں بھول بھی جائیں تو کیا

وہ ہمیں بھول بھی جائیں تو کیا

Woh Humein Bhool bhi Jaayein to Kya Ghazal Shirani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ ہمیں بھول بھی جائیں تو کوئی شکوہ نہیں

ہم نے تو اپنے دل کو وفا کا آئینہ بنا رکھا ہے!

ان کے کوچے کی خاک ہی سرمایۂ جاں ہے اپنا

جس سے ہر خار کو گلِ تر بنا رکھا ہے!

اخترؔ خودداری کے ساتھ جیتے رہیں گے ہم

جس نے عاشقی کے سر کو بلند بنا رکھا ہے!

Woh Humein Bhool Bhi Jaayein To Koi Shikwa Nahin

Hum Ne To Apne Dil Ko Wafa Ka Aayina Bana Rakha Hai!

Un Ke Kooche Ki Khaak Hi Sarmaya-e-Jaan Hai Apna

Jis Se Har Khaar Ko Gul-e-Tar Bana Rakha Hai!

غزل Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے