وہ ہمیں بھول بھی جائیں تو کیا
Woh Humein Bhool bhi Jaayein to Kya Ghazal Shirani
وہ ہمیں بھول بھی جائیں تو کوئی شکوہ نہیں
ہم نے تو اپنے دل کو وفا کا آئینہ بنا رکھا ہے!
ان کے کوچے کی خاک ہی سرمایۂ جاں ہے اپنا
جس سے ہر خار کو گلِ تر بنا رکھا ہے!
اخترؔ خودداری کے ساتھ جیتے رہیں گے ہم
جس نے عاشقی کے سر کو بلند بنا رکھا ہے!
Woh Humein Bhool Bhi Jaayein To Koi Shikwa Nahin
Hum Ne To Apne Dil Ko Wafa Ka Aayina Bana Rakha Hai!
Un Ke Kooche Ki Khaak Hi Sarmaya-e-Jaan Hai Apna
Jis Se Har Khaar Ko Gul-e-Tar Bana Rakha Hai!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
اختر شیرانی
محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...
