شاعری ہب / غزل / لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

Log Toot Jaate Hain Ek Ghar Banaane mein Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں!

کتنی صدیوں کی محنت سے سنورتی ہے تہذیب

اور پلک جھپکتے ہی راکھ کرنے میں زمانے کو!

ہم نے تو امن اور الفت کی شمع جلائی ہے

تا کہ محبت کا سویرا ہو ہر دیوانے کو!

بشیرؔ دردمندانہ یہ آواز سدا زندہ رہے گی

جس نے جھنجھوڑا ہے سدا ہر باضمیر زمانے کو!

Log Toot Jaate Hain Ek Ghar Banaane Mein

Tum Tars Nahin Khaate Bastiyan Jalaane Mein!

Kitni Sadiyon Ki Mehnat Se Sanwarti Hai Tehzeeb

Aur Palak Jhapakte Hi Raakh Karne Mein Zamane Ko!

Hum Ne To Amn Aur Ulfat Ki Shama Jalaayi Hai

Ta Ke Mohabbat Ka Sawera Ho Har Deewane Ko!

Bashir Dardmandaana Yeh Aawaaz Sada Zinda Rahe Gi

Jis Ne Jhanjhhoda Hai Sada Har Ba-Zameer Zamane Ko!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے