شاعری ہب / نظم / کتے

کتے

Kutte

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار تذلیل کمائی

نہ آرام راتوں کو نہ چین دن کو

ہمیشہ غلاظت میں لتھڑی ہوئی لاشیں

اگر ایک ہو جائیں یہ بے بس و مظلوم

تو دنیا پہ چھا جائیں یہ قہر بن کر

یہ چاہیں تو بن جائیں آقا جہاں کے

مٹا دیں ستم کے سبھی سنگ و پیکر

Yeh Galiyon ke avara be Kaar Kutte

Ke bkhsha gaya Jin ko zavq-e gdai

Zamane ki Phatkar sarmaya Un ka

Jahan bhr ki dhtkar tzlil kamai

Na aaraam Raton ko na chain Din ko

Hamesha ghlazt mein lthri hui Lashen

Agar Ek ho jaayein yeh be bas-o-mazlum

To duniya pe chha jaayein yeh qahr ban kar

Yeh chahein to ban jaayein aqa jahan ke

Mita dein Sitam ke Sabhi sang-o-Paikar

نظم
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے