شاعری ہب / نظم / مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

Mujh se Pehli Si Mohabbat Mere Mehboob na Maang Nazm

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے

جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے، خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ!

Mujh Se Pehli Si Mohabbat Mere Mehboob Na Maang

Main Ne Samjha Tha Ke Tu Hai To Darakhshan Hai Hayaat

Tera Gham Hai To Gham-e-Dahr Ka Jhagda Kya Hai

Teri Soorat Se Hai Aalam Mein Baharon Ko Sabaat

Teri Aankhon Ke Siwa Duniya Mein Rakha Kya Hai

Aur Bhi Dukh Hain Zamane Mein Mohabbat Ke Siwa

Rahatein Aur Bhi Hain Wasl Ki Raahat Ke Siwa

Lout Jaati Hai Idhar Ko Bhi Nazar Kya Keejiye

Ab Bhi Dilkash Hai Tera Husn Magar Kya Keejiye!

نظم
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے