شاعری ہب / نظم / بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

Bol ke Lab Aazaad Hain Tere Nazm

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کے آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے، سرخ ہے لوہا

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے!

Bol Ke Lab Aazaad Hain Tere

Bol Zabaan Ab Tak Teri Hai

Tera Sutwan Jism Hai Tera

Bol Ke Jaan Ab Tak Teri Hai

Bol Yeh Thoda Waqt Bohat Hai

Jism-o-Zabaan Ki Maut Se Pehle

Bol Ke Sach Zinda Hai Ab Tak

Bol Jo Kuch Kehna Hai Keh Le!

نظم
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے