ہم دیکھیں گے (لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے)
Hum Dekhenge Lazim Hai ke Hum bhi Dekhenge Nazm
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہلِحکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!
ہم دیکھیں گے!
Hum Dekhenge
Laazim Hai Ke Hum Bhi Dekhenge
Woh Din Ke Jis Ka Waada Hai
Jo Lauh-e-Azal Pe Likha Hai
Jab Zulm-o-Sitam Ke Koh-e-Giraan
Rooee Ki Tarah Ud Jayeinge
Hum Mahkoomon Ke Paaon Tale
Jab Dharti Dhad Dhad Dhadke Gi
Sab Taaj Uchhale Jayeinge
Sab Takht Giraye Jayeinge
Bas Naam Rahe Ga Allah Ka
Aur Raaj Kare Gi Khalq-e-Khuda!
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...
