شاعری ہب / نظم / ہم دیکھیں گے (لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے)

ہم دیکھیں گے (لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے)

Hum Dekhenge Lazim Hai ke Hum bhi Dekhenge Nazm

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہلِحکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

جب ارضِ خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلقِ خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

ہم دیکھیں گے!

Hum Dekhenge

Laazim Hai Ke Hum Bhi Dekhenge

Woh Din Ke Jis Ka Waada Hai

Jo Lauh-e-Azal Pe Likha Hai

Jab Zulm-o-Sitam Ke Koh-e-Giraan

Rooee Ki Tarah Ud Jayeinge

Hum Mahkoomon Ke Paaon Tale

Jab Dharti Dhad Dhad Dhadke Gi

Sab Taaj Uchhale Jayeinge

Sab Takht Giraye Jayeinge

Bas Naam Rahe Ga Allah Ka

Aur Raaj Kare Gi Khalq-e-Khuda!

نظم
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے