شاعری ہب / غزل / ہستی سے نہ پردہ ہو خدا کے آگے

ہستی سے نہ پردہ ہو خدا کے آگے

Hasti se na Parda Ho Khuda ke Aage Ghazal Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہستی سے نہ پردہ ہو خدا کے آگے

عاجزی ہی بھلی ہے اس کبریا کے آگے!

شاہ و گدا سبھی اک صف میں کھڑے ہیں وہاں

کوئی دعویٰ نہ چلے گا اس جزا کے آگے!

ذوقؔ توبہ کے آنسو ہی سب سے بڑی دولت ہیں

جو بخشش بنتے ہیں روزِ فزا کے آگے!

Hasti Se Na Parda Ho Khuda Ke Aage

Aajizi Hi Bhali Hai Us Kibriya Ke Aage!

Shah-o-Gada Sabhi Ik Saf Mein Khade Hain Wahan

Koi Daawa Na Chale Ga Us Jaza Ke Aage!

غزل Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے