ہستی سے نہ پردہ ہو خدا کے آگے
Hasti se na Parda Ho Khuda ke Aage Ghazal Zauq
ہستی سے نہ پردہ ہو خدا کے آگے
عاجزی ہی بھلی ہے اس کبریا کے آگے!
شاہ و گدا سبھی اک صف میں کھڑے ہیں وہاں
کوئی دعویٰ نہ چلے گا اس جزا کے آگے!
ذوقؔ توبہ کے آنسو ہی سب سے بڑی دولت ہیں
جو بخشش بنتے ہیں روزِ فزا کے آگے!
Hasti Se Na Parda Ho Khuda Ke Aage
Aajizi Hi Bhali Hai Us Kibriya Ke Aage!
Shah-o-Gada Sabhi Ik Saf Mein Khade Hain Wahan
Koi Daawa Na Chale Ga Us Jaza Ke Aage!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
شیخ محمد ابراہیم ذوق
شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...
