شاعری ہب / غزل / اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

Ab to Ghabra ke Yeh Kehte Hain ke Mar Jayeinge Ghazal Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے!

ہم نہ ہوں گے تو کسی اور کے ہو جائیں گے وہ

حسن والے ہیں زمانے میں جدھر جائیں گے!

شمع کی طرح سے جلتے ہیں سرِ بزمِ فراق

ہم اندھیروں کے سمندر میں اتر جائیں گے!

ذوقؔ اس عشق کی وادی میں سنبھل کر چلیے

ورنہ ہر موڑ پہ طوفان گزر جائیں گے!

Ab To Ghabra Ke Yeh Kehte Hain Ke Mar Jayeinge

Mar Ke Bhi Chain Na Paaya To Kidhar Jayeinge!

Hum Na Honge To Kisi Aur Ke Ho Jayeinge Woh

Husn Wale Hain Zamane Mein Jidhar Jayeinge!

Shama Ki Tarah Se Jalte Hain Sar-e-Bazm-e-Firaaq

Hum Andheron Ke Samundar Mein Utar Jayeinge!

غزل Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے