شاعری ہب / غزل / وقتِ پیری شباب کی باتیں

وقتِ پیری شباب کی باتیں

Waqt-e-Piri Shabab ki Baatein Ghazal Sheikh Ibrahim Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وقتِ پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں!

وہ جو گزرا زمانہ الفت کا

اب کہاں وہ گلاب کی باتیں!

ہم نے دیکھی ہے زندگی کی خزاں

اب کریں کیا شراب کی باتیں!

ذوقؔ خاموش بیٹھ کٹیا میں

چھوڑ اس احتساب کی باتیں!

Waqt-e-Piri Shabab Ki Baatein

Aisi Hain Jaise Khwab Ki Baatein!

Woh Jo Guzra Zamana Ulfat Ka

Ab Kahan Woh Gulaab Ki Baatein!

غزل Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے