شاعری ہب / غزل / اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

Ab to Ghabra ke Yeh Kehte Hain Ghazal Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے!

ہم نے تو اپنے دل کو تری دید کا مشتاق کیا

پر ترے جلوے نہ جانے کس نگر جائیں گے!

ذوقؔ استادِ سخن کا یہ مرتبہ سدا رہے گا

جس سے چمنِ اردو کے ہر گوشے نکھر جائیں گے!

Ab To Ghabra Ke Yeh Kehte Hain Ke Mar Jaayenge

Mar Ke Bhi Chein Na Paaya To Kidhar Jaayenge!

Hum Ne To Apne Dil Ko Teri Deed Ka Mushtaaq Kiya

Par Tere Jalwe Na Jaane Kis Nagar Jaayenge!

Zauq Ustaad-e-Sukhan Ka Yeh Martaba Sada Rahe Ga

Jis Se Chaman-e-Urdu Ke Har Goshe Nikhar Jaayenge!

غزل Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے