شاعری ہب / غزل / گزر گیا وہ زمانہ کہو تو کیا کہیے

گزر گیا وہ زمانہ کہو تو کیا کہیے

Guzar Gaya Woh Zamana Kaho to Kya Kahiye Ghazal Insha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گزر گیا وہ زمانہ کہو تو کیا کہیے

لٹ گیا دل کا خزانہ کہو تو کیا کہیے!

ہم نے تو چاہا تھا سچی وفا کا گیت لکھنا

پر بن گیا وہ فسانہ کہو تو کیا کہیے!

انشاؔ درویشی کا خرقہ پہن کے بیٹھ گئے

اب چھوڑا یہ ویرانہ کہو تو کیا کہیے!

Guzar Gaya Woh Zamana Kaho To Kya Kahiye

Lut Gaya Dil Ka Khazana Kaho To Kya Kahiye!

Hum Ne To Chaaha Tha Sacchi Wafa Ka Geet Likhna

Par Ban Gaya Woh Fasaana Kaho To Kya Kahiye!

غزل Urdu
Comment
ابنِ انشا
تعارفِ شاعر

ابنِ انشا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 جون 1927 — 11 جنوری 1978 📍 فلور (جالندھر) / کراچی / لندن، پاکستان

شیر محمد خاں المعروف ابنِ انشا (15 جون 1927ء – 11 جنوری 1978ء) اردو ادب کی تاریخ کے منفرد ترین، پرسوز، درویش صفت شاعر، ممتاز مزاح نگار اور شہرۂ آفاق سیاح و سفرنامہ نگار تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے