شاعری ہب / غزل / کبھی ہم بھی خوب ہوا کرتے تھے

کبھی ہم بھی خوب ہوا کرتے تھے

Kabhi Hum bhi Khoob Hua Karte The Ghazal Insha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کبھی ہم بھی خوب ہوا کرتے تھے

محبتوں کے محبوب ہوا کرتے تھے!

پر گردشِ دوراں نے سب کچھ چھین لیا

ہم غموں کے مغلوب ہوا کرتے تھے!

انشاؔ اب یادوں کا دامن ہی سہارا ہے

جب دل کے سبھی عیوب ہوا کرتے تھے!

Kabhi Hum Bhi Khoob Hua Karte The

Mohabbaton Ke Mehboob Hua Karte The!

Par Gardish-e-Dauraan Ne Sab Kuch Chheen Liya

Hum Ghamon Ke Maghloob Hua Karte The!

غزل Urdu
Comment
ابنِ انشا
تعارفِ شاعر

ابنِ انشا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 جون 1927 — 11 جنوری 1978 📍 فلور (جالندھر) / کراچی / لندن، پاکستان

شیر محمد خاں المعروف ابنِ انشا (15 جون 1927ء – 11 جنوری 1978ء) اردو ادب کی تاریخ کے منفرد ترین، پرسوز، درویش صفت شاعر، ممتاز مزاح نگار اور شہرۂ آفاق سیاح و سفرنامہ نگار تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے