شاعری ہب / غزل / شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی

شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی

Shab-e-Gham ki Sahar Nahin Hoti Insha Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی

یا ہماری نظر نہیں ہوتی!

ہم نے تو مانگی تھی دیدِ یار فقط

پر ان کو کوئی خبر نہیں ہوتی!

انشاؔ اس راہِ عاشقی میں سنبھلو

جہاں دعا میں بھی اثر نہیں ہوتی!

Shab-e-Gham Ki Sahar Nahin Hoti

Ya Hamari Nazar Nahin Hoti!

Hum Ne To Maangi Thi Deed-e-Yaar Faqat

Par Un Ko Koi Khabar Nahin Hoti!

غزل Urdu
Comment
ابنِ انشا
تعارفِ شاعر

ابنِ انشا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 جون 1927 — 11 جنوری 1978 📍 فلور (جالندھر) / کراچی / لندن، پاکستان

شیر محمد خاں المعروف ابنِ انشا (15 جون 1927ء – 11 جنوری 1978ء) اردو ادب کی تاریخ کے منفرد ترین، پرسوز، درویش صفت شاعر، ممتاز مزاح نگار اور شہرۂ آفاق سیاح و سفرنامہ نگار تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے