شاعری ہب / غزل / دلِ وحشی سنبھل جا اب

دلِ وحشی سنبھل جا اب

Dil-e-Wahshi Sambhal Jaa Ab Ghazal Insha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دلِ وحشی سنبھل جا اب کہ وہ زمانہ بیت گیا

جس کو تری تمنا تھی وہ دیوانہ بیت گیا!

ہم نے تو چاہا تھا چاند نگر کو آباد کریں

پر وقت کا بہتا ہوا وہ پیمانہ بیت گیا!

انشاؔ اب اس بزم میں کوئی شمع نہ جلاؤ

جب شمع کا جلنے والا پروانہ بیت گیا!

Dil-e-Wahshi Sambhal Jaa Ab Ke Woh Zamana Beet Gaya

Jis Ko Teri Tamanna Thi Woh Deewana Beet Gaya!

Hum Ne To Chaaha Tha Chaand Nagar Ko Aabaad Karein

Par Waqt Ka Behta Hua Woh Paimana Beet Gaya!

غزل Urdu
Comment
ابنِ انشا
تعارفِ شاعر

ابنِ انشا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 جون 1927 — 11 جنوری 1978 📍 فلور (جالندھر) / کراچی / لندن، پاکستان

شیر محمد خاں المعروف ابنِ انشا (15 جون 1927ء – 11 جنوری 1978ء) اردو ادب کی تاریخ کے منفرد ترین، پرسوز، درویش صفت شاعر، ممتاز مزاح نگار اور شہرۂ آفاق سیاح و سفرنامہ نگار تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے