شاعری ہب / غزل / کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

Kal Chaudhvin ki Raat Thi Shab Bhar Raha Charcha Tera Ghazal Insha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا!

ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے

ہم ہنس دیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا!

کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں گے ہم

پھر کس سے تو مانگے گی دل، کس کو ملے گا جلوہ ترا!

انشاؔ ترے اس روپ پر سو جان سے قربان ہیں

جس نے سجایا ہے سدا اشکوں سے یہ کاشانہ ترا!

Kal Chaudhvin Ki Raat Thi Shab Bhar Raha Charcha Tera

Kuch Ne Kaha Yeh Chaand Hai Kuch Ne Kaha Chehra Tera!

Hum Bhi Wahin Maujood The Hum Se Bhi Sab Poochha Kiye

Hum Hans Diye Hum Chup Rahe Manzoor Tha Parda Tera!

Kooche Ko Tere Chhod Kar Jogi Hi Ban Jayeinge Hum

Phir Kis Se Tu Maange Gi Dil, Kis Ko Mile Ga Jalwa Tera!

غزل Urdu
Comment
ابنِ انشا
تعارفِ شاعر

ابنِ انشا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 جون 1927 — 11 جنوری 1978 📍 فلور (جالندھر) / کراچی / لندن، پاکستان

شیر محمد خاں المعروف ابنِ انشا (15 جون 1927ء – 11 جنوری 1978ء) اردو ادب کی تاریخ کے منفرد ترین، پرسوز، درویش صفت شاعر، ممتاز مزاح نگار اور شہرۂ آفاق سیاح و سفرنامہ نگار تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے