محسن نقوی
محسن نقوی
%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86 %d9%86%d9%82%d9%88%db%8c 15 کلام
اردو ادب و شاعری کے منتخب و لازوال کلام کا گلدستہ
غمِ شبیرؑ کا ماتم مری آنکھوں میں رہا
اشک بہتے رہے اور دل کو سکوں ملتا رہا
درد کا بوجھ سنبھالا نہ گیا ہاتھوں سے
ٹوٹ کر اشک جو پلکوں سے گرا خاک ہوا
تیرے کوچے کے مسافر کو اماں مل نہ سکی
عمر بھر در بدر ٹھوکر ہی مقدر ٹھہری
شہر کی بھیڑ میں گم ہو کے نہ رہ جائے کوئی
اپنی تنہائی کا ماتم سرِ محفل نہ کرو
لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بدل جاتا ہے
دل تو کہتا ہے کہ وہ اب بھی وفا دار ہی ہے
ہم نے مقتل میں بھی نغمے ہی گائے محسنؔ
دار کی چھاؤں میں بھی اپنا بھرم قائم تھا
رات کے پچھلے پہر چاند نے دیکھا مجھ کو
اور ہنس کر کہا محسنؔ ترے ارمان گئے
وہ مجھے چھوڑ کے جس موڑ پہ تنہا کر گیا
آج تک اس موڑ سے کوئی رستہ نہ ملا
موجِ خوں سر سے گزر ہی گئی آخر محسنؔ
ہم وفاؤں کی تجارت میں خسارے میں رہے
