شاعری ہب / غزل / ہم نے مقتل میں بھی نغمے ہی گائے محسنؔ

ہم نے مقتل میں بھی نغمے ہی گائے محسنؔ

Hum Ne Maqtal mein bhi Naghme hi Gaaye

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے مقتل میں بھی نغمے ہی گائے محسنؔ

دار کی چھاؤں میں بھی اپنا بھرم قائم تھا

تیغِ قاتل کی چمک نے نہ ڈرایا ہم کو

سر کٹا کر بھی وفاداری کا دم قائم تھا

اہلِ کوفہ نے بدالی تھی روش رسمِ جفا

پر شہیدوں کے لہو کا ہی قلم قائم تھا

ظلم کی رات زیادہ تو نہ رہ پائی کبھی

صبحِ آزادی کا پرچم تو ستم قائم تھا

ہم سدا حق کے علمدار رہیں گے یارو

جب تلک سینۂ بیدار میں غم قائم تھا

Hum Ne maqtal mein bhi Naghme hi Gaaye mhsn

Daar ki chhaon mein bhi Apna bharam qaim tha

Teġ-e qatil ki Chamak Ne na draia Hum ko

Sar kata kar bhi ofadari ka dam qaim tha

Ahl-e kofh Ne bdali thi rosh rasm-e Jafa

Par Shaheedon ke lahu ka hi Qalam qaim tha

Zulm ki Raat zyada to na rh pai kabhi

Subh-e azadi ka parcam to Sitam qaim tha

Hum sada Haq ke Alamdar rhin Ge Yaaro

Jab tlk sin-e baidar mein Gham qaim tha

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے