شاعری ہب / غزل / لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بدل جاتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بدل جاتا ہے

Log Kehte Hain ke Woh Shakhs Badal Jaata Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بدل جاتا ہے

دل تو کہتا ہے کہ وہ اب بھی وفا دار ہی ہے

گرچہ دیکھا ہے زمانے نے تغافل اس کا

پر مری چشمِ محبت کا خریدار ہی ہے

ہم نے سو بار بلایا ہے اسے نام لے کر

وہ جو خاموش سہی میرا ہی دلدار ہی ہے

عشق میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی

جس نے مانا ہے وہ سچا گنہگار ہی ہے

محسنؔ اب درد کی شدت پہ نہ رو رو کے مرو

تیرا محبوب محبت کا طرفدار ہی ہے

Log kehte hain ke woh Shakhs bdl jaata hai

Dil to kehta hai ke woh ab bhi Wafa Daar hi hai

Grchh dekha hai Zamane Ne taġaful Is ka

Par mri Chashm-e Mohabbat ka khridar hi hai

Hum Ne Sau Baar blaia hai Ise / Use Naam le kar

Woh jo Khamosh shi Mera hi dldar hi hai

Ishq mein shak ki Koi gnjash nahin hoti

Jis Ne maana hai woh sacca gnhgar hi hai

Mhsn ab Dard ki shiddat pe na ro ro ke mro

Tera Mehboob Mohabbat ka trfdar hi hai

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے