سچل ونڈ پاور پروجیکٹ سی پیک ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت مالیاتی کلوز حاصل کرنے والا اولین ونڈ فارم تھا۔ چائنا کے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک (ICBC) کی فنانسنگ سے 110 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ اس پلانٹ میں دنیا کی صفِ اول کی ٹربائن ساز کمپنی "گولڈ ونڈ" کی 33 ڈائریکٹ ڈرائیو پرماننٹ میگنیٹ ٹربائنز لگائی گئی ہیں۔ اپریل 2017 سے آپریشنل یہ پلانٹ انتہائی کم ہوا میں بھی مسلسل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| ٹربائن ماڈل | 33 گولڈ ونڈ GW77/1500 پرماننٹ میگنیٹ ڈائریکٹ ڈرائیو |
| پیداواری گنجائش | 49.5 MW سالانہ 136.5 گیگا واٹ گھنٹے |
| سرمایہ کاری فریم ورک | پاک چین نجی و سرکاری بینکنگ کنسورشیم |
| ٹرانسمیشن | 132 kV ڈبل سرکٹ گرڈ کنکشن |
ٹھٹھہ، کوٹری اور حیدرآباد فیڈرز سے منسلک ہے۔
سالانہ 85,000 ٹن گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی اور ملک کے اندر ری نیوایبل انرجی کی حوصلہ افزائی۔
اس میں روایتی گیئر باکس نہیں ہوتا جس کے باعث اس کے پرزہ جات کی گھساوٹ اور خرابی کا امکان 70% کم ہو جاتا ہے اور مینٹیننس کا خرچہ بچتا ہے۔