کروٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سی پیک کے تحت تعمیر ہونے والا پہلا میگا ہائیڈل پراجیکٹ ہے اور یہ چین کے مشہور "سلک روڈ فنڈ" کی تاریخ کی پہلی براہ راست بین الاقوامی سرمایہ کاری ہے۔ دریائے جہلم پر پنجاب اور آزاد کشمیر کی سرحد پر تعمیر شدہ یہ ڈیم 95.5 میٹر بلند کنکریٹ گریوٹی ڈیم اور 27 کلومیٹر طویل قدرتی جھیل پر مشتمل ہے۔ جون 2022 میں کمرشل آپریشن شروع کرنے والے اس پلانٹ میں 180 میگاواٹ کی 4 جدید فرانسس ٹربائنز نصب ہیں جو ہر سال 3 ارب 20 کروڑ یونٹ انتہائی سستی اور 100 فیصد ماحولیاتی آلودگی سے پاک پن بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتی ہیں۔ اس ڈیم سے سالانہ 3.5 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی بچت ہوتی ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| ڈیم کی اونچائی | 95.5 میٹر کنکریٹ گریوٹی اسٹرکچر |
| پاور ہاؤس کیپیسٹی | 720 MW (4 فرانسس ٹربائنز × 180 MW) |
| سالانہ گرین جنریشن | 3,200 گیگا واٹ گھنٹے (3.2 ارب یونٹ بجلی فی سال) |
| کاربن اخراج میں بچت | سالانہ 3.5 ملین ٹن CO2 اخراج کی کمی |
| نیشنل گرڈ ترسیل | 500 kV ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن تا روات گرڈ اسلام آباد |
پلانٹ روات (راولپنڈی/اسلام آباد) اور منگلا گرڈ سے جڑا ہے جہاں سے شمالی و وسطی پنجاب کے تمام بڑے شہروں کو بجلی سپلائی ہوتی ہے۔
تیل اور کوئلے کے بغیر پانی کی قدرتی طاقت سے سستی ترین بجلی کی پیداوار، ملکی زرمبادلہ کی مستقل بچت، اور آزاد کشمیر و پنجاب کے سرحدی علاقوں میں شاہراہوں اور پلوں کا بنیادی ڈھانچہ۔
منصوبے کا بنیادی اسٹرکچر 100 سالہ آپریشنل لائف کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ 30 سالہ رعایتی مدت کے بعد یہ مکمل طور پر حکومت پاکستان کو مفت منتقل ہو جائے گا۔