مٹیاری تا لاہور ±660 kV ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (HVDC) ٹرانسمیشن لائن پاکستان کی پاور ہسٹری کا سب سے جدید اور بڑا ترسیلی انفراسٹرکچر منصوبہ ہے۔ ماضی میں پاکستان کا گرڈ صرف روایتی آلٹرنیٹنگ کرنٹ (AC) پر چلتا تھا جس کی وجہ سے جنوب (سندھ و تھر) کے پلانٹس سے پنجاب تک بجلی لاتے ہوئے 20% بجلی تاروں میں ضائع ہو جاتی تھی۔ اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنا (SGCC) نے 1.65 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری سے 886 کلومیٹر طویل بائی پول لائن اور مٹیاری و لاہور میں دو عظیم الشان کنورٹر اسٹیشنز تعمیر کیے۔ یہ لائن ہمہ وقت 4,000 میگاواٹ بجلی 40 فیصد کم ترسیلی نقصانات کے ساتھ چند سیکنڈوں میں پنجاب کے صنعتی مراکز تک پہنچاتی ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| کل کوریڈور لمبائی | 886 کلومیٹر (سندھ اور پنجاب کے درجنوں اضلاع سے گزرتی ہے) |
| وولٹیج ریٹنگ | ±660 kV بائی پول ڈائریکٹ کرنٹ (HVDC) |
| ترسیلی صلاحیت | 4,000 میگاواٹ (4 GW مسلسل بیس لوڈ پاور) |
| ٹرانسمیشن ٹاورز | 1,973 بلند اسٹیل ٹاورز مع ارتھ وائر اور اوپٹیکل فائبر گرڈ |
| کنورٹر اسٹیشنز | مٹیاری کنورٹر اسٹیشن (سندھ) اور بالوکی کنورٹر اسٹیشن نزد لاہور (پنجاب) |
جنوب میں تھر، پورٹ قاسم اور کراچی کے 500 kV گرڈز سے بجلی وصول کر کے لاہور میں بالوکی کے مقام پر نیشنل ٹرانسمیشن گرڈ میں انڈیلتی ہے۔
پاکستان کے قومی خزانے کو لائن لاسز کی مد میں سالانہ اربوں روپے کا فائدہ، بلیک آؤٹس اور گرڈ فریکوئنسی ٹرپنگ کا خاتمہ، اور پنجاب کے کارخانوں کو مسلسل بجلی۔
طویل فاصلے پر ڈی سی بجلی منتقل کرنے سے تاروں کی مزاحمت سے پیدا ہونے والی حرارت اور لیکیج ختم ہو جاتی ہے، جس سے لائن لاسز 40 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔