سوکی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ خیبر پختونخوا کی خوبصورت وادی کاغان میں دریائے کنہار کے پانیوں پر تعمیر کیا گیا سی پیک کا سب سے بڑا نجی ہائیڈرو پاور شاہکار ہے۔ چائنا گیزوبا گروپ (CGGC) نے 1.96 ارب ڈالر کی خطیر براہ راست سرمایہ کاری سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس پروجیکٹ کا واٹر ہیڈ تقریباً 920 میٹر بلند ہے جو اسے پاکستان کا سب سے اونچا ہائی ہیڈ پلانٹ بناتا ہے۔ یہاں پانی کو 22 کلومیٹر طویل سرنگوں کے ذریعے زیرِ زمین پاور ہاؤس تک لایا جاتا ہے جہاں 221 میگاواٹ کی 4 پیلٹن ٹربائنز سالانہ 3 ارب 10 کروڑ یونٹ سستی ترین گرین انرجی پیدا کر کے اسلام آباد اور پشاور گرڈ کو سپلائی کرتی ہیں۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| ٹربائنز کی قسم | 4 پیلٹن ٹربائنز (221 MW ہر ایک — پاکستان کا ریکارڈ ہائی ہیڈ) |
| واٹر ہیڈ کی اونچائی | 920 میٹر گراوٹ ہیڈ (High-Head Pelton Design) |
| ہیڈ ریس ٹنل | 22 کلومیٹر طویل زیرِ زمین کنکریٹ لائنڈ واٹر ٹنل سسٹم |
| ڈیم اسٹرکچر | 54.5 میٹر بلند کنکریٹ گریوٹی ڈیم مع 4 اسپل وے گیٹس |
| سالانہ متوقع پیداوار | سالانہ 3,129 گیگاواٹ گھنٹے (3.12 ارب یونٹ بجلی) |
500 kV سوکی کناری تا اسلام آباد ویسٹ ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے قومی گرڈ میں انخلاء۔
خیبر پختونخوا اور وفاقی دارالحکومت کے لیے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دائمی خاتمہ، کاغان ہائی وے اور پلوں کی بین الاقوامی معیار پر اپ گریڈیشن، اور سالانہ اربوں روپے زرمبادلہ بچت۔
اس کا 920 میٹر اونچا واٹر ہیڈ ہے، جس کے باعث پانی اتنی تیز رفتار سے ٹربائنز سے ٹکراتا ہے کہ کم پانی میں بھی زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔