اینگرو تھر بلاک-II منصوبہ پاکستان کی توانائی کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ ہے۔ 70 سالوں تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ صحرائے تھر کے نیچے دبے 175 ارب ٹن کوئلے (Lignite) سے بجلی پیدا کرنا ناممکن ہے۔ سی پیک کے تحت حکومت سندھ اور اینگرو کے اشتراک (SECMC) نے 100 سے زائد چینی اور پاکستانی ماہرین کی قیادت میں تھر میں ملکی تاریخ کی پہلی اوپن پٹ کول مائن کھودی اور اس کے مائن ماؤتھ پر 660 میگاواٹ کا پاور پلانٹ قائم کیا۔ جولائی 2019 سے فعال ہونے والے اس پلانٹ نے ثابت کر دیا کہ تھر کا کوئلہ نہ صرف مکمل طور پر قابلِ استعمال ہے بلکہ درآمدی ایندھن کے مقابلے میں ملکی خزانے کے سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| ٹیکنالوجی | سرکولیٹنگ فلوئڈائزڈ بیڈ (CFB) بوائلرز جو تھر کے نم کوئلے کے لیے خصوصی ڈیزائن ہیں |
| کوئلہ مائننگ | سالانہ 3.8 ملین ٹن اوپن پٹ مائننگ فیز-1 (توسیع فیز-2 7.6 ملین ٹن) |
| مقامی روزگار | تھر کے مقامی باسیوں بشمول خواتین ڈمپر ڈرائیورز کی تاریخی شمولیت |
| پانی کا انتظام | سب سی واٹر ڈی واٹرنگ کینال اور محفوظ ماحولیاتی واٹر ریزروائر |
| گرڈ ٹرانسمیشن | 500 kV تھر تا مٹیاری ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن |
پلانٹ براہ راست 500 kV مٹیاری گرڈ اور بعد ازاں مٹیاری-لاہور ±660 kV HVDC لائن سے جڑا ہوا ہے جس سے تھر کی بجلی پنجاب کے صنعتی شہروں تک پہنچتی ہے۔
درآمدی کوئلے اور تیل پر انحصار کا خاتمہ، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر بوجھ میں سالانہ 1.5 ارب ڈالر کمی، اور صحرائے تھر میں اسکولوں، ہسپتالوں اور پینے کے پانی کا انقلاب۔
تھر کا کوئلہ چونکہ مائن کے بالکل قریب ہی جلایا جاتا ہے اور اس پر کوئی بحری یا طویل ریل فریٹ نہیں لگتا، اس لیے یہ پاکستان کی میرٹ آرڈر لسٹ میں پن بجلی کے بعد سستی ترین تھرمل انرجی ہے۔