شنگھائی الیکٹرک تھر بلاک-I انٹیگریٹڈ مائننگ اینڈ پاور پروجیکٹ سی پیک کے تحت تھر کا سب سے بڑا پاور کمپلیکس ہے۔ اس میگا پروجیکٹ میں 1.91 ارب ڈالر کی لاگت سے بیک وقت 7.8 ملین ٹن سالانہ صلاحیت کی جدید ترین اوپن پٹ کوئلہ کان کھودی گئی اور اس کے سرہانے 1,320 میگاواٹ (2 × 660 میگاواٹ) کے الٹرا سپر کریٹیکل پاور پلانٹس قائم کیے گئے۔ فروری 2023 میں کمرشل آپریشن شروع کرنے والا یہ پروجیکٹ ہر سال تقریباً 9 ارب کلو واٹ گھنٹے (kWh) بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر رہا ہے جس سے پاکستان کے 40 لاکھ سے زائد گھرانے مستفید ہو رہے ہیں۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| پاور صلاحیت | 1,320 MW (2 یونٹس × 660 MW سپر کریٹیکل) |
| مائننگ کیپیسٹی | سالانہ 7.8 ملین ٹن تھر لیگنائٹ کوئلہ مائننگ |
| کارکردگی ماڈل | Mine-mouth Integrated Model (صفر ٹرانسپورٹیشن لاگت) |
| ماحولیاتی ٹیکنالوجی | ہائی پرفارمنس FGD سسٹم اور الیکٹرو اسٹیٹک پریسیپیٹیٹرز |
| پاور ترسیل | 500 kV تھر-مٹیاری ٹرانسمیشن گرڈ نیٹ ورک |
ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے مٹیاری کنورٹر اسٹیشن اور وہاں سے ±660 kV HVDC لائن سے ملک کے شمالی صنعتی زونز تک بجلی کی ترسیل ممکن ہے۔
پاکستان کے امپورٹڈ فیول بل میں سالانہ 1.2 ارب ڈالر سے زائد کی کمی، تھر کے صحرائی عوام کے لیے ہزاروں مستقل نوکریاں، اور پائیدار توانائی۔
یہ مقامی کوئلے سے چلنے والا پاکستان کا سب سے بڑا پاور پلانٹ ہے جو بیرونی تیل یا گیس خریدے بغیر نیشنل گرڈ کو ہمہ وقت مضبوط رکھتا ہے۔