آزاد پتن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ دریائے جہلم کے ہائیڈل کیسکیڈ کا ایک اور عظیم سی پیک ستون ہے۔ 1.54 ارب ڈالر لاگت کا یہ منصوبہ آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی اور پنجاب کے ضلع راولپنڈی کی سرحد پر چائنا گیزوبا گروپ (CGGC) کے ذریعے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ پروجیکٹ میں 90 میٹر بلند ڈیم اور دریا کے بہاؤ پر 700.7 میگاواٹ کا پاور ہاؤس تعمیر کیا جائے گا جو ہر سال 3 ارب 25 کروڑ یونٹ سستی ترین پن بجلی قومی گرڈ میں شامل کرے گا۔ یہ منصوبہ سی پیک کے ماحول دوست فیز-۲ کا کلیدی جزو ہے۔
سی پیک اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور متعلقہ وزارت کے مصدقہ سرکاری ڈیٹا پر مبنی تکنیکی پیرامیٹرز:
| تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) | سرکاری تفصیلات، گنجائش و مصدقہ ریکارڈ |
|---|---|
| صلاحیت | 700.7 MW (4 فرانسس ٹربائنز × 175 MW) |
| ڈیم اسٹرکچر | 90 میٹر بلند رولر کمپییکٹڈ کنکریٹ (RCC) ڈیم |
| سالانہ پیداوار | 3,258 گیگاواٹ گھنٹے (3.25 ارب یونٹ کلین بجلی) |
| سرمایہ کاری ماڈل | 100% نجی غیر ملکی سرمایہ کاری (BOOT ماڈل 30 سالہ رعایتی مدت) |
| ٹرانسمیشن لنک | 500 kV آزاد پتن تا راولپنڈی ٹرانسمیشن لائن |
روات اور اسلام آباد گرڈ اسٹیشنز کے ذریعے نیشنل ٹرانسمیشن گرڈ سے مربوط ہوگا۔
پاکستان کی تیل سے بننے والی مہنگی بجلی پر انحصار کا خاتمہ، آزاد کشمیر کے لیے اربوں روپے واٹر یوز ٹیکس اور رائلٹی، اور لاکھوں گھرانوں کے لیے مستقل بجلی۔
منصوبے سے راولپنڈی اور سدھنوتی کے اضلاع میں نئی پختہ شاہراہیں، کینال پل، اسکول اور پینے کے پانی کی سپلائی کے درجنوں فلاحی منصوبے مکمل ہوں گے۔