عبید اللہ علیم

Obaidullah Aleem

Modern
12 جون 1939-18 مئی 1998 بھوپال / کراچی, پاکستان
عبید اللہ علیم (12 جون 1939ء – 18 مئی 1998ء) جدید اردو غزل کی تاریخ میں حسن و یاس، ملائمت اور گہرے جذباتی سوز و گداز کے سب سے مقبول اور ہر دلعزیز شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ بھوپال (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ آپ نے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے سنہری دور میں سینئر پروڈیوسر کے طور پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ 1974ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ 'چاند چہرہ ستارہ آنکھیں' شائع ہوا جس نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا اور اسے پاکستان کا سب سے بڑا 'آدم جی ادبی انعام' ملا۔ ان کی غزل 'عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی بہل جائے / اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے' (مہدی حسن کی آواز میں) اور 'چاند چہرہ ستارہ آنکھیں' برصغیر کے کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں میں 'ویران سرائے کا دیا' اور 'نگارِ صبح' شامل ہیں۔ آپ کا انتقال کراچی میں ہوا اور تدفین بہشتی مقبرہ، ربوہ میں ہوئی۔
دل کو تیری یاد کا سرمایہ ملا ہے علیمؔ جس کے سہارے یہ کٹھن زندگی کٹتی چلی گئی
Dil Ko Teri Yaad Ka Sarmaya Mila Hai Aleem Jis Ke Sahaare Yeh Kathin Zindagi Katti Chali Gayi
تفصیل دیکھیں »
خواب کی طرح بکھرنا ہے مقدر اپنا سدا پر تری دید کی حسرت کبھی کم نہ ہوئی
Khwab Ki Tarah Bikharna Hai Muqaddar Apna Sada Par Teri Deed Ki Hasrat Kabhi Kam Na Hui
تفصیل دیکھیں »
زندگی تو نے مجھے قرض دیا تھا شاید علیمؔ جس کے بدلے میں مرا سارا سکھ چھین لیا
Zindagi Tu Ne Mujhe Qarz Diya Tha Shayad Aleem Jis Ke Badle Mein Mera Saara Sukh Chheen Liya
تفصیل دیکھیں »
تنہائی کے سناٹے میں جب تری یاد آئی دل نے اک بار پھر تری وفا کا ماتم کیا
Tanhaayi Ke Sannaate Mein Jab Teri Yaad Aayi Dil Ne Ik Baar Phir Teri Wafa Ka Maatam Kiya
تفصیل دیکھیں »
ویران سرائے کا دیا بن کے جلتے رہے ہم تا کہ راہگیروں کو محبت کا سراغ مل سکے
Weeraan Saraye Ka Diya Ban Ke Jalte Rahe Hum Ta Ke Raahgeeron Ko Mohabbat Ka Suraagh Mil Sake
تفصیل دیکھیں »
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی بہل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
Azeez Itna Hi Rakho Ke Jee Behal Jaaye Ab Is Qadr Bhi Na Chaho Ke Dam Nikal Jaaye
تفصیل دیکھیں »
چاند چہرہ ستارہ آنکھیں اور وہ زلفوں کا جال جس نے دل کے ہر اک گوشے میں مچا دیا ہڑتال
Chaand Chehra Sitara Aankhein Aur Woh Zulfon Ka Jaal Jis Ne Dil Ke Har Ik Goshe Mein Macha Diya Hartaal
تفصیل دیکھیں »
آنکھ چرا کر چلتے ہو تو کوئی بات نہیں دل میں تری یاد کا دیپ سدا جلتا رہے گا
Aankh Chura Kar Chalte Ho To Koi Baat Nahin Dil Mein Teri Yaad Ka Deep Sada Jalta Rahe Ga
تفصیل دیکھیں »