شاعری ہب / غزل / خواب کی طرح بکھرنا ہے

خواب کی طرح بکھرنا ہے

Khwab ki Tarah Bikharna Hai Ghazal Aleem

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خواب کی طرح بکھرنا ہے مقدر اپنا سدا

پر تری دید کی حسرت کبھی کم نہ ہوئی!

ہم نے تو پلکوں پہ سجائے تھے آنسو سارے

پر ہجر کی یہ رات کبھی ختم نہ ہوئی!

علیمؔ یاس و حسرت کی یہ داستاں سدا رہے گی

جس نے دل کو سکھائی کبھی مات نہ ہوئی!

Khwab Ki Tarah Bikharna Hai Muqaddar Apna Sada

Par Teri Deed Ki Hasrat Kabhi Kam Na Hui!

Hum Ne To Palkon Pe Sajaye The Aansoo Saare

Par Hijr Ki Yeh Raat Kabhi Khatm Na Hui!

غزل Urdu
Comment
عبید اللہ علیم
تعارفِ شاعر

عبید اللہ علیم

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 12 جون 1939 — 18 مئی 1998 📍

عبید اللہ علیم (12 جون 1939ء – 18 مئی 1998ء) جدید اردو غزل کی تاریخ میں حسن و یاس، ملائمت اور گہرے جذباتی سوز و گداز کے سب سے مقبول اور ہر دلعزیز شاعر مانے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے