شاعری ہب / غزل / زندگی تو نے مجھے قرض دیا تھا شاید

زندگی تو نے مجھے قرض دیا تھا شاید

Zindagi Tu Ne Mujhe Qarz Diya Tha Shayad Aleem

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زندگی تو نے مجھے قرض دیا تھا شاید علیمؔ

جس کے بدلے میں مرا سارا سکھ چھین لیا!

ہم نے تو مانگا تھا اک پیار کا حسیں لمحہ

پر زمانے نے ہر اک آس کا دیپ چھین لیا!

علیمؔ صبر کے ساتھ ہی جیتے رہیں گے ہم

جس نے غم کے ہر طوفان کو جیت لیا!

Zindagi Tu Ne Mujhe Qarz Diya Tha Shayad Aleem

Jis Ke Badle Mein Mera Saara Sukh Chheen Liya!

Hum Ne To Maanga Tha Ik Pyaar Ka Haseen Lamha

Par Zamane Ne Har Ik Aas Ka Deep Chheen Liya!

غزل Urdu
Comment
عبید اللہ علیم
تعارفِ شاعر

عبید اللہ علیم

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 12 جون 1939 — 18 مئی 1998 📍

عبید اللہ علیم (12 جون 1939ء – 18 مئی 1998ء) جدید اردو غزل کی تاریخ میں حسن و یاس، ملائمت اور گہرے جذباتی سوز و گداز کے سب سے مقبول اور ہر دلعزیز شاعر مانے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے