شاعری ہب / غزل / تنہائی کا یہی فسانہ ہے

تنہائی کا یہی فسانہ ہے

Tanhaai ka Yehi Fasaana Hai Aleem Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تنہائی کے سناٹے میں جب تری یاد آئی

دل نے اک بار پھر تری وفا کا ماتم کیا!

ہم تو سمجھے تھے کہ سنور جائے گا مقدر اپنا

پر ہجر کے اندھیروں نے بڑا ستم کیا!

علیمؔ عشق کی بزم میں سر اٹھا کے چلتے ہیں ہم

جس نے دل کے ہر درد کو محرم کیا!

Tanhaayi Ke Sannaate Mein Jab Teri Yaad Aayi

Dil Ne Ik Baar Phir Teri Wafa Ka Maatam Kiya!

Hum To Samjhe The Ke Sanwar Jaaye Ga Muqaddar Apna

Par Hijr Ke Andheron Ne Bada Sitam Kiya!

غزل Urdu
Comment
عبید اللہ علیم
تعارفِ شاعر

عبید اللہ علیم

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 12 جون 1939 — 18 مئی 1998 📍

عبید اللہ علیم (12 جون 1939ء – 18 مئی 1998ء) جدید اردو غزل کی تاریخ میں حسن و یاس، ملائمت اور گہرے جذباتی سوز و گداز کے سب سے مقبول اور ہر دلعزیز شاعر مانے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے