شاعری ہب / نظم / ویران سرائے کا دیا (شاہکار نظم)

ویران سرائے کا دیا (شاہکار نظم)

Veeraan Saraye ka Diya Nazm Obaidullah Aleem

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ویران سرائے کا دیا بن کے جلتے رہے ہم

تا کہ راہگیروں کو محبت کا سراغ مل سکے!

ہوا کے تیز جھونکوں سے لڑتے رہے رات بھر

تا کہ بیتے ہوئے کارواں کی یاد کا چراغ جل سکے!

علیمؔ وفا کی اس تنہائی میں جو سکون ہے

وہ شاہی درباروں کی رونق سے کہیں بڑھ کر ہے!

Weeraan Saraye Ka Diya Ban Ke Jalte Rahe Hum

Ta Ke Raahgeeron Ko Mohabbat Ka Suraagh Mil Sake!

Hawa Ke Tez Jhonkon Se Ladte Rahe Raat Bhar

Ta Ke Beete Hue Kaarwaan Ki Yaad Ka Chiraagh Jal Sake!

نظم Urdu
Comment
عبید اللہ علیم
تعارفِ شاعر

عبید اللہ علیم

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 12 جون 1939 — 18 مئی 1998 📍

عبید اللہ علیم (12 جون 1939ء – 18 مئی 1998ء) جدید اردو غزل کی تاریخ میں حسن و یاس، ملائمت اور گہرے جذباتی سوز و گداز کے سب سے مقبول اور ہر دلعزیز شاعر مانے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے