شاعری ہب / غزل / آنکھ چرا کر چلتے ہو

آنکھ چرا کر چلتے ہو

Aankh Chura Kar Chalte Ho Ghazal Aleem

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آنکھ چرا کر چلتے ہو تو کوئی بات نہیں

دل میں تری یاد کا دیپ سدا جلتا رہے گا!

ہم نے تو اپنے دل کو اک آئینہ بنا رکھا ہے

جہاں ترا ہی چہرہ سدا کھلتا رہے گا!

علیمؔ وفا کی راہ میں شکوہ کیسا کسی سے

کہ سچا پیار زمانے سے سدا ملتا رہے گا!

Aankh Chura Kar Chalte Ho To Koi Baat Nahin

Dil Mein Teri Yaad Ka Deep Sada Jalta Rahe Ga!

Hum Ne To Apne Dil Ko Ik Aayina Bana Rakha Hai

Jahan Tera Hi Chehra Sada Khilta Rahe Ga!

غزل Urdu
Comment
عبید اللہ علیم
تعارفِ شاعر

عبید اللہ علیم

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 12 جون 1939 — 18 مئی 1998 📍

عبید اللہ علیم (12 جون 1939ء – 18 مئی 1998ء) جدید اردو غزل کی تاریخ میں حسن و یاس، ملائمت اور گہرے جذباتی سوز و گداز کے سب سے مقبول اور ہر دلعزیز شاعر مانے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے