شاعری ہب / غزل / شبِ ویراں کا یہی فسانہ ہے

شبِ ویراں کا یہی فسانہ ہے

Shab-e-Veeraan ka Yehi Fasaana Hai Rashid Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ ویراں کا یہی فسانہ ہے سدا

کہ دل کو فکری طوفانوں میں لانا ہے سدا!

ہم نے تو نیند کے غفلت کدوں کو چھوڑ دیا

جہاں سچائی کا پرچم سدا اٹھانا ہے سدا!

راشدؔ بیداری کا یہ چراغ کبھی نہ بجھے گا

جسے ہر دور کے انسان نے دل میں بسانا ہے سدا!

Shab-e-Weeraan Ka Yehi Fasaana Hai Sada

Ke Dil Ko Fikri Toofanon Mein Laana Hai Sada!

Hum Ne To Neend Ke Ghaflat-Kadon Ko Chhod Diya

Jahan Sacchayi Ka Parcham Sada Uthaana Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
ن م راشد
تعارفِ شاعر

ن م راشد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1 اگست 1910 — 9 اکتوبر 1975 📍

نذر محمد راشد المعروف ن م راشدؔ (1 اگست 1910ء – 9 اکتوبر 1975ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید آزاد نظم کے سب سے پہلے اور عظیم ترین بانی، فکری انقلاب اور وجودی فلسفے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے