شاعری ہب / غزل / خاموشی بھی اک بیان ہے اگر سمجھو

خاموشی بھی اک بیان ہے اگر سمجھو

Khamoshi bhi Ak Bayaan Hai Agar Samjho Rashid

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی بھی اک بیان ہے اگر سمجھو تو بات ہے

روح کی ہر اک صدا میں چھپی حیات ہے!

ہم نے تو لفظوں کے بنا بھی کی ہے گفتگو

جہاں ہر سطر میں فلسفے کی برسات ہے!

راشدؔ فکر کا یہ دریا سدا رواں رہے گا

جو ہر دور کی الجھنوں سے نجات ہے!

Khamoshi Bhi Ik Bayaan Hai Agar Samjho To Baat Hai

Rooh Ki Har Ik Sada Mein Chhupi Hayaat Hai!

Hum Ne To Lafzon Ke Bina Bhi Ki Hai Guftagu

Jahan Har Satr Mein Falsafe Ki Barsaat Hai!

غزل Urdu
Comment
ن م راشد
تعارفِ شاعر

ن م راشد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1 اگست 1910 — 9 اکتوبر 1975 📍

نذر محمد راشد المعروف ن م راشدؔ (1 اگست 1910ء – 9 اکتوبر 1975ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید آزاد نظم کے سب سے پہلے اور عظیم ترین بانی، فکری انقلاب اور وجودی فلسفے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے