شاعری ہب / غزل / دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

Dil ke Sahra mein Koi Diya Jala Kar Dekho Rashid

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

اور تنہائی کے سناٹے میں آواز سنا کر دیکھو!

ہم نے تو لٹایا ہے فکری نغموں کا خزانہ

اب خود کو اس سچائی کا آئینہ بنا کر دیکھو!

راشدؔ محبت اور عزم کا یہ حسیں سنگم

جسے اپنے جذبوں کے سنگ سجا کر دیکھو!

Dil Ke Sehra Mein Koi Diya Jala Kar Dekho

Aur Tanhaayi Ke Sannaate Mein Awaaz Suna Kar Dekho!

Hum Ne To Lutaya Hai Fikri Naghmon Ka Khazana

Ab Khud Ko Is Sacchayi Ka Aayina Bana Kar Dekho!

غزل Urdu
Comment
ن م راشد
تعارفِ شاعر

ن م راشد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1 اگست 1910 — 9 اکتوبر 1975 📍

نذر محمد راشد المعروف ن م راشدؔ (1 اگست 1910ء – 9 اکتوبر 1975ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید آزاد نظم کے سب سے پہلے اور عظیم ترین بانی، فکری انقلاب اور وجودی فلسفے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے