شاعری ہب / غزل / فکر و آگہی کی منزلیں کہاں

فکر و آگہی کی منزلیں کہاں

Fikr-o-Aagahi ki Manzilein Kahan Rashid Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

فکر و آگہی کی منزلیں بڑی دور ہیں سدا

پر ہم نے ہر موڑ پر نیا قدم بڑھایا ہے سدا!

ظلم اور جہالت کے اندھیروں کو مٹایا ہے

اور علم و حکمت کا در کھول دکھایا ہے سدا!

راشدؔ قلم کی حرمت سدا زندہ رہے گی

جس سے انسانی روح کو جگایا ہے سدا!

Fikr-o-Aagahi Ki Manzilein Badi Door Hain Sada

Par Hum Ne Har Mod Par Naya Qadam Badhaya Hai Sada!

Zulm Aur Jahalat Ke Andheron Ko Mitaya Hai

Aur Ilm-o-Hikmat Ka Dar Khol Dikhaya Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
ن م راشد
تعارفِ شاعر

ن م راشد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1 اگست 1910 — 9 اکتوبر 1975 📍

نذر محمد راشد المعروف ن م راشدؔ (1 اگست 1910ء – 9 اکتوبر 1975ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید آزاد نظم کے سب سے پہلے اور عظیم ترین بانی، فکری انقلاب اور وجودی فلسفے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے