شاعری ہب / غزل / شبِ انتظار کی رات کٹتی نہیں

شبِ انتظار کی رات کٹتی نہیں

Shab-e-Intezaar ki Raat Kat-Ti Nahin Ghazal Majaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ انتظار کی رات کٹتی نہیں

ہجر کے دکھ کی یہ برسات تھمتی نہیں!

ہم نے تو جلائے رکھے ہیں دیدہ و دل کے چراغ

پر تری آمد کی کوئی بات بنتی نہیں!

مجازؔ صبر کا دامن تھامے جیتے رہیں گے ہم

جب تک ترے کرم کی سوغات ملتی نہیں!

Shab-e-Intezaar Ki Raat Katti Nahin

Hijr Ke Dukh Ki Yeh Barsaat Thamti Nahin!

Hum Ne To Jalaye Rakhe Hain Deeda-o-Dil Ke Chiraagh

Par Teri Aamad Ki Koi Baat Banti Nahin!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے