شاعری ہب / غزل / آنسو بہا بہا کے بھی دل کو قرار ہے

آنسو بہا بہا کے بھی دل کو قرار ہے

Aansoo Baha Baha ke bhi Dil ko Qaraar Hai Ghazal Majaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آنسو بہا بہا کے بھی دل کو قرار ہے

یہ دردِ عشق بھی کیا خوب یادگار ہے!

ہم نے تو دیکھا ہے دنیا کو بدلتے ہوئے بھی

پر تیری یاد کا جادو برقرار ہے!

مجازؔ اس بزمِ وفا میں تیرے ہی گیت گائیں گے

جس سے دونوں جہاں کا یہ چمن نکھار ہے!

Aansoo Baha Baha Ke Bhi Dil Ko Qaraar Hai

Yeh Dard-e-Ishq Bhi Kya Khoob Yaadgaar Hai!

Hum Ne To Dekha Hai Duniya Ko Badalte Hue Bhi

Par Teri Yaad Ka Jaadu Bar-Qaraar Hai!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے