شاعری ہب / غزل / دلِ مضطرب کو سکون مل گیا

دلِ مضطرب کو سکون مل گیا

Dil-e-Muztarib ko Sukoon Mil Gaya Majaz Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دلِ مضطرب کو سکون مل گیا

جب ترے کوچے کا اک سراغ مل گیا!

ہم تو اندھیروں میں بھٹک رہے تھے ترے لیے

پر تری یاد کا اک حسیں چراغ مل گیا!

مجازؔ محبت کا یہ صلہ کیسا ملا ہمیں

کہ ہجر کے بدلے وصل کا باغ مل گیا!

Dil-e-Muztarib Ko Sukoon Mil Gaya

Jadon Tere Kooche Ka Ik Suraagh Mil Gaya!

Hum To Andheron Mein Bhatak Rahe The Tere Liye

Par Teri Yaad Ka Ik Haseen Chiraagh Mil Gaya!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے