شاعری ہب / غزل / چھلکے ہوئے جامِ شباب کی قسم

چھلکے ہوئے جامِ شباب کی قسم

Chalke Huwe Jaam-e-Shabab ki Qasam Majaz Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

چھلکے ہوئے جامِ شباب کی قسم

تری آنکھوں کے پرفسوں خواب کی قسم!

ہم نے تو مانی ہے سچی محبت کی لگن

تیرے رخسار کے کھلے ہوئے گلاب کی قسم!

مجازؔ اس بزم میں سدا نغمے گائیں گے ہم

تری اداؤں کے ہر اک نصاب کی قسم!

Chalke Huwe Jaam-e-Shabab Ki Qasam

Teri Aankhon Ke Pur-Fusoon Khwab Ki Qasam!

Hum Ne To Maani Hai Sacchi Mohabbat Ki Lagan

Tere Rukhsaar Ke Khile Hue Gulaab Ki Qasam!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے