شاعری ہب / غزل / تیری محفل سے اٹھ کے کہاں جائیں گے ہم

تیری محفل سے اٹھ کے کہاں جائیں گے ہم

Teri Mehfil se Uth ke Kahan Jaayeinge Hum Ghazal Majaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تیری محفل سے اٹھ کے کہاں جائیں گے ہم

جہاں جائیں گے تیرے ہی گیت گائیں گے ہم!

ہم نے تو اپنے دل کو سجا رکھا ہے ترے لیے

اور ہر سانس میں تیرا ہی نام لائیں گے ہم!

مجازؔ اس عاشقی کے فسانے کا کیا کہیں

جسے عمر بھر دل میں چھپائیں گے ہم!

Teri Mehfil Se Uth Ke Kahan Jayeinge Hum

Jahan Jayeinge Tere Hi Geet Gayeinge Hum!

Hum Ne To Apne Dil Ko Saja Rakha Hai Tere Liye

Aur Har Saans Mein Tera Hi Naam Layeinge Hum!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے