شاعری ہب / غزل / رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!

Rshk Khta He Kh As ka Ghir

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!

عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا

ذرّہ ذرّہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہے

گردشِ مجنوں بہ چشمک‌ ہائے لیلیٰ آشنا

شوق ہے "ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجز"

ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا

Rashk kehta hai ke Is ka Ghair se ikhlas hif

Aql kehti hai ke woh be mahr Kis ka ashna

Zrh zrh saghr-e Mae Khana nirng hai

Gardish-e Majnoon bah Chashmak haee lili ashna

Shoq hai saman traz-e nazsh-e arbab-e ajz

Zrh Sehra dast gah-o-qatra Darya ashna

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے