شاعری ہب / غزل / ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس

ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس

Aik Ahl Drd Ne Snsan Jo Dikha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس

یوں کہا آتی نہیں اب کیوں صدائے عندلیب؟

بال و پر دو چار دکھلا کر کہا صیّاد نے

یہ نشانی رہ گئی ہے اب بجائے عندلیب

Ek ahl-e Dard Ne sunsaan jo dekha Qafas

Yun kaha aati nahin ab kyun sdae andlib

Baal-o-par do Chaar dkhla kar kaha siad Ne

Yeh nishani rh gi hai ab bajae andlib

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے