شاعری ہب / غزل / دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

Dhmki Min Mr Gia Jo Nh Bab

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

"عشقِ نبرد پیشہ" طلب گارِ مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا

اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا

تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں

مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

Dhmki mein Mar gia jo na bab-e nbrd tha

Ishq-e nbrd Pesha Talab Gaar-e mard tha

Tha Zindagi mein marg ka khtka laga hua

Arney se Peshtar bhi Mara rang zard tha

Talif-e nuskha haee Wafa kar Raha tha mein

Mjmoa-e Khayal Abhi frd frd tha

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے