شاعری ہب / نظم / رقیب سے

رقیب سے

Raqeeb se

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے

جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے

دہر کو دہر کا فسانہ بنا رکھا تھا

آشنا دیکھ کے تجھ کو وہ نگاہِ پر شوق

کیسے رکتی تھی مرا دل تو دھڑکتا تھا بہت

تو نے بھی اس کی حسیں زلف کے سائے دیکھے

تیری راتوں میں بھی وہ چاند چمکتا تھا بہت

ہم دونوں کے مقدر میں یہی ہجر لکھا تھا

غمِ دوراں کے سمندر میں سسکتا تھا بہت

Aa ke oabsth hain Is Husn ki Yaadein tujh se

Jis Ne Is Dil ko pari Khana bana rakha tha

Jis ki Ulfat mein bhla rkhi thi duniya Hum Ne

Dhr ko dhr ka fasana bana rakha tha

Ashna dekh ke tujh ko woh Nigah-e par Shoq

Kaise Rukti thi Mara Dil to dhrkta tha bahut

To Ne bhi Is ki Haseen Zulf ke sae dikhey

Teri Raton mein bhi woh Chaand Chamakta tha bahut

Hum Donon ke mqdr mein ihi Hijr Likha tha

Gham-e doran ke samundar mein sskta tha bahut

نظم
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے